7 اشعار

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

Aandhi Chali To Naqsh-e-Kaf-e-Pa Nahin Mila

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا

«آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا

ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہےاپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا

آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دورخاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا

قدموں کو شوق آبلہ پائی تو مل گیالیکن بہ ظرف وسعت صحرا نہیں ملا

کنعاں میں بھی نصیب ہوئی خود دریدگیچاک قبا کو دست زلیخا نہیں ملا

مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دوتم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا

کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئیمضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں