8 اشعار

روح کی موت

Rooh Ki Maut

روح کی موت

«روح کی موت» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میںوہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا

یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکےیہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا

لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تکدل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی

جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکنمرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی

نہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پرمرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا

نہ جانے کیوں ہر اک امید لوٹ جانے پرمرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا

نہ جانے کون سے ہونٹوں کا آسرا پا کرتمہارے ہونٹ مری تشنگی کو بھول گئے

وہی اصول جو محکم تھے نرم سائے میںذرا سی دھوپ میں نکلے تو جھول جھول گئے

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں