آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
کلام: مصطفی زیدی
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہےاپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہےاپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
کتنے لہجوں کی کٹاریں مری گردن پہ چلیںکتنے الفاظ کا سیسہ مرے کانوں میں گھلا
جس میں اک سمت دھندلکا تھا اور اک سمت غباراس ترازو پہ مرے درد کا سامان تلا