22 اشعار

ایک شام

Ek Shaam

ایک شام

«ایک شام» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میںاب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی

موم بتی کی روشنی میں نظرحافظے کے ورق الٹتی تھی

ریت کے سوگوار ٹیلوں پرچاندنی رات بھر بھٹکتی تھی

آج لیکن تھکے ہوئے دل پرجسم کا تار تار بھاری ہے

شام کی دم بخود ہواؤں پرصبح کا انتظار بھاری ہے

مقبروں سے اٹھی ہوئی آندھیٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ہے

خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امیدپے بہ پے کروٹیں بدلتی ہے

ایک اک عکس سانس لیتا ہےایک اک یاد آنکھ ملتی ہے

جیسے صحرا میں سر جھکائے ہوئےحاجیوں کی قطار چلتی ہے

زرد چنگاریوں کے دامن میںیوں سلگتا ہے سرد آتش دان

جیسے بچوں کی بھوک کے آگےایک نادار باپ کا ایمان

دم بخود خامشی میں دھیرے سےزرد پتے قدم اٹھاتے ہیں

یاد کے کارواں اندھیرے میںخواب کی طرح سرسراتے ہیں

کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرےاپنی آہٹ سے کانپ جاتے ہیں

دل کی قربان گاہ کے آگےایک ٹوٹا ہوا دیا بھی نہیں

کسی پیپل کے نرم سائے میںکوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں

روح کے کاسۂ گدائی کوچار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں

لمبی چوڑی سڑک کے دامن پرقمقمے سہمے سہمے جلتے ہیں

جیسے اکثر بڑے گھرانوں میںفاقہ کش رشتہ دار پلتے ہیں

سوچتا ہوں کہ اس دیار سے دورایک ایسا بھی دیس ہے جس کی

رات تاروں میں سج کے آئے گیصبح ہوگی تو گھر کے گوشوں میں

تیری معصوم مسکراہٹ کینرم سی دھوپ پھیل جائے گی

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں