8 اشعار

ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں

Honthon ke mah-e-taab hain, aankhon ke baam hain

ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں

«ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیںسَر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں

تم سے تو ایک دل کی کلی بھی نہ کِھل سکییہ بھی بلا کشان ِ محبت کے کام ہیں

دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیاراِس سر زمیں کے لوگ بہت بدکلام ہیں

تھوڑی سی دیر صبر کہ اِس عرصہ گاہ میںاے سوز ِ عشق ، ہم کو ابھی اور کام ہیں

تم بھی خُدا سے سوزِ جنوں کی دُعا کروہم پر تو اِن بزرگ کے احسان عام ہیں

وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکااور جس پہ اتفاق سے آنسُو حرام ہیں

اپنے پہ آ پڑیں تو نئے پن کی حَد نہیںجو واقعات سب کی حکایت میں عام ہیں

مُنعم کا تو خُدا بھی اَمیں ، بُت بھی پاسباںمُفلس کے صرف تیغ علیہ السّلام ہیں

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں