12 اشعار

میرے محبوب وطن کی گلیو!

Mere mehboob watan ki galiyon!

میرے محبوب وطن کی گلیو!

«میرے محبوب وطن کی گلیو!» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

میرے محبوب وطن کی گلیو!تم کو اور اپنے دوستوں کو سلام

اپنے زخمی شباب کو تسلیماپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام

عمر بھر کے لیے تمھارے پاسرہ گئی ہے شگفتگی میری

آخری رات کے اداس دیو!یاد ہے تم کو بے بسی میری؟

یاد ہے تم کو جب بھلائے تھےعمر بھر کے کیے ہوئے وعدے

رسم و مذہب کی اک بچارن نےایک چاندی کے دیوتا کے لیے

جانے اس کارگاہ ہستی میںاس کو وہ دیوتا ملا کہ نہیں

میری کلیوں کا خون پی کے بھیاس کا اپنا کنول کھلا کہ نہیں

سنا آج کل اس کے دامن میںپیار کے رنگ ہیں کہ پیسے ہیں

تم کو معلوم ہو تو بتلانااس کے آنچل کے رنگ کیسے ہیں

مجھ کو آواز دو کہ صبح کی اوسکیا مجھے ابھی یاد کرتی ہے ؟

میرے گھر کی ادس چوکھٹ پرکیا کبھی چاندنی اتری ہے ؟

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں