5 اشعار

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی

Jab Hawa Shab Ko Badalti Hui Pehlu Aayi

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی

«جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی

میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تکمیری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی

اپنی آنکھوں سے لگاتی ہیں زمانے کے قدمشہر کی راہ گزاروں میں مری خو آئی

ہاں نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی راتمیں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو آئی

مژدہ اے دل کسی پہلو تو قرار آ ہی گیامنزل دار کٹی ساعت گیسو آئی

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں