جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
کلام: مصطفی زیدی
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی
میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تکمیری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی
میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تکمیری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی
س سے ملنا تو اس طرح کہنا:۔تجھ س پہلے مری نگاہوں میں
کوئی روپ اس طرح نہ اترا تھاتجھ سے آباد ہے خرابئہ دل