11 اشعار

سفر آخر شب

Safar-e-Aakhir-e-Shab

سفر آخر شب

«سفر آخر شب» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گلکسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا

کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والوخمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا

تمہارے ساتھ رہے کون کون سے تارےسیاہ رات میں کس کس نے تم کو چھوڑ دیا

بچھڑ گئے کہ دغا دے گئے شریک سفرالجھ گیا کہ وفا کا طلسم ٹوٹ گیا

نصیب ہو گیا کس کس کو قرب سلطانیمزاج کس کا یہاں تک قلندرانہ رہا

فگار ہو گئے کانٹوں سے پیرہن کتنےزمیں کو رشک چمن کر گیا لہو کس کا

سنائیں یا نہ سنائیں حکایت شب غمکہ حرف حرف صحیفہ ہے، اشک اشک قلم

کن آنسوؤں سے بتائیں کہ حال کیسا ہےبس اس قدر ہے کہ جیسے ہیں سرفراز ہیں ہم

ستیزہ کار رہے ہیں جہاں بھی الجھے ہیںشعار راہ زناں سے مسافروں کے قدم

ہزار دشت پڑے، لاکھ آفتاب ابھرےجبیں پہ گرد، پلک پر نمی نہیں آئی

کہاں کہاں نہ لٹا کارواں فقیروں کامتاع درد میں کوئی کمی نہیں آئی

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں