7 اشعار

سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا

Sahar jeete gi ya shaam-e-ghariban dekhte rehna

سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا

«سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنایہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہنا

ہر اک اہل لہو نے بازیٔ ایماں لگا دی ہےجو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا

ادھر سے مدعی گزریں گے ایقان شریعت کےنظر آ جائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا

اسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیںمگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا

سمجھ میں آ گیا تیری نگاہوں کے الجھنے پربھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا

ہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گےمیاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا

دبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہیہی بن جائیں گی تمہید طوفاں دیکھتے رہنا

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں