روح کی موت
کلام: مصطفی زیدی
چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میںوہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا
یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکےیہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میںوہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا
یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکےیہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا