سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
کلام: مصطفی زیدی
سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہےاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے
کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سےہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہےاس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے
کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اس سےہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے
سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنایہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہنا
ہر اک اہل لہو نے بازیٔ ایماں لگا دی ہےجو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا