10 اشعار

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا

Meri judaiyon se woh mil kar nahin gaya

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا

«میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے خوشی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیااس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا

دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھےجیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا

کیا خوب ہیں ہماری ترقی پسندیاںزینے بنا لیے کوئی اوپر نہیں گیا

جغرافیے نے کاٹ دیے راستے مرےتاریخ کو گلہ ہے کہ میں گھر نہیں گیا

ایسی کوئی عجیب عمارت تھی زندگیباہر سے جھانکتا رہا اندر نہیں گیا

ڈالا نہ دوستوں کو کبھی امتحان میںصحرا میں میرے ساتھ سمندر نہیں گیا

اس وقت تک سلگتی رہی اس کی آرزوجب تک دھوئیں سے سارا بدن بھر نہیں گیا

ذلت کے بھاؤ بک گئیں عزت مآبیاںدستار اس کی جاتی رہی سر نہیں گیا

خواہش ہوس کے روپ میں اچھی نہیں لگیدنیا کو فتح کر کے سکندر نہیں گیا

کاندھوں پہ اپنے لوگ اسے لے گئے کہاںپیروں سے اپنے چل کے مظفرؔ نہیں گیا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں