آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں
کلام: مظفر وارثی
آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیںمیں جسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ وہ دنیا تو نہیں
روح کو درد ملا درد کو آنکھیں نہ ملیںتجھ کو محسوس کیا ہے تجھے دیکھا تو نہیں
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیںمیں جسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ وہ دنیا تو نہیں
روح کو درد ملا درد کو آنکھیں نہ ملیںتجھ کو محسوس کیا ہے تجھے دیکھا تو نہیں