5 اشعار

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

Jab apna qafila azm-o-yaqeen se niklega

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

«جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گاجہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنےتو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا

جو آسمانوں میں بانٹے گا روشنی اپنیوہ آفتاب اسی سرزمیں سے نکلے گا

وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دےمجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا

مقابلہ تو مظفرؔ کروں اندھیروں سےچراغ بن کے پسینہ جبیں سے نکلے گا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں