5 اشعار

سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں

Safar bhi door ka hai rah-ashna bhi hain

سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں

«سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیںچلا ادھر کو ہوں جس سمت کی ہوا بھی نہیں

گزر رہا ہوں قدم رکھ کے اپنی آنکھوں پرگئے دنوں کی طرف مڑ کے دیکھتا بھی نہیں

مرا وجود مری زندگی کی حد نہ سہیکبھی جو طے ہی نہ ہو میں وہ فاصلہ بھی نہیں

فضا میں پھیل چلی میری بات کی خوشبوابھی تو میں نے ہواؤں سے کچھ کہا بھی نہیں

سمجھ رہا ہوں مظفرؔ اسے شریک سفرجو میرے ساتھ قدم دو قدم چلا بھی نہیں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں