8 اشعار

سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں

Saya koi main apne hi paikar se nikaloon

سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں

«سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے ریبل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوںتنہائی بتا کیسے تجھے گھر سے نکالوں

اک موج بھی مل جائے اگر مجھ کو صلے میںگرتے ہوئے دریا کو سمندر سے نکالوں

تیشے سے بجاتا پھروں میں بربط کہسارنغمے جو مرے دل میں ہیں پتھر سے نکالوں

لو تیز نہیں کچھ مری آنکھوں ہی کی شایدمطلب یہی بے نوریٔ منظر سے نکالوں

بدلے نہ کوئی رنگ ترا حسن خموشیمیں بات کے پہلو ترے تیور سے نکالوں

توبہ نے جگایا مرے اندر کا شرابیاب فال بھی ٹوٹے ہوئے ساغر سے نکالوں

سوچوں کے بیاباں میں لیے پھرتا ہے مجھ کوکیا ذہن بھی سودا ہے جسے سر سے نکالوں

اک نسل سخن مجھ میں ہے آباد مظفرؔصورت نئی ہر لفظ کے اندر سے نکالوں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں