منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں
کلام: مظفر وارثی
منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیںکان دستک پر لگے ہیں گھر کا دروازہ نہیں
ہاتھ پر تو نے مقدر کی لکیریں کھینچ دیںکیا تجھے بھی میرے مستقبل کا اندازہ نہیں
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیںکان دستک پر لگے ہیں گھر کا دروازہ نہیں
ہاتھ پر تو نے مقدر کی لکیریں کھینچ دیںکیا تجھے بھی میرے مستقبل کا اندازہ نہیں