5 اشعار

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا

Ab kis se kahein aur kaun sune jo haal tumhare baad hua

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا

«اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوااس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا

یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کیوہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا

اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئےاک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھااب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا

بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میںایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بیداد ہوا

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں