6 اشعار

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے

Palat kar phir kabhi us ne pukara hi nahin hai

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے

«پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہےوہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے

محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیںکہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے

کبھی وہ جگنوؤں کو مُٹھیوں میں قید کرنامگر اب تو ہمیں یہ سب گوارا ہی نہیں ہے

اب اس کے خال و خد کا ذکر کیا کرتے کِسی سےکہ ہم پر آج تک وہ آشکارا ہی نہیں ہے

یہ خواہش تھی کہ ہم کُچھ دُور تک تو ساتھ چلتےستاروں کا مگر کوئی اِشارا ہی نہیں ہے

بہت سے زخم کھانے دل نے آخر طے کیا ہےتمھارے شہر میں اپنا گزارا ہی نہیں ہے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں