5 اشعار

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

Woh baat baat mein itna badalta jata hai

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

«وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےکہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے

یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیںمگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے

رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیںکہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے

رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچلہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے

وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھےتجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں