5 اشعار

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون

Titliyan jugnoo sabhi honge magar dekhega kaun

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون

«تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کونہم سجا بھی لیں اگر دیوار و در دیکھے گا کون

اب تو ہم ہیں جاگنے والے تری خاطر یہاںہم نہ ہوں گے تو ترے شام و سحر دیکھے گا کون

جس کی خاطر ہم سخن سچائی کے رستے چلےجب وہی اس کو نہ دیکھے تو ہنر دیکھے گا کون

سب نے اپنی اپنی آنکھوں پر نقابیں ڈال لیںجو لکھا ہے شہر کی دیوار پر دیکھے گا کون

بے ستارہ زندگی کے گھر میں اب بھی رات کواک کرن تیرے خیالوں کی مگر دیکھے گا کون

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں