دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے
کلام: راکب مختار
دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئےایسے شفا ہوئی کہ وہیں بیٹھے مر گئے
اطراف میں تو اپنے تھے ، دشمن تھا سامنےکیوں تیر میرے جسم میں ترچھے اتر گئے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئےایسے شفا ہوئی کہ وہیں بیٹھے مر گئے
اطراف میں تو اپنے تھے ، دشمن تھا سامنےکیوں تیر میرے جسم میں ترچھے اتر گئے