5 اشعار

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے

Jooñhī ghabrā ke mirī āñkh se āñsū nikle

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے

«جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے فاران وڑائچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلےماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے

آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکنبات جیسی بھی ہو مگر امن کا پہلو نکلے

ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولتپھینکنے والے ترے ہاتھ ترازو نکلے

میرے سردار نے کچھ ایسے مدینہ چھوڑاجیسے ٹہنی پہ کھلے پھول سے خوشبو نکلے

میں نے مقتل میں جو یاروں کو صدا دی راکبسر کہیں سے تو کہیں ریت سے بازو نکلے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں