جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے
کلام: راکب مختار
جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلےماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے
آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکنبات جیسی بھی ہو مگر امن کا پہلو نکلے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلےماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے
آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکنبات جیسی بھی ہو مگر امن کا پہلو نکلے