لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے
کلام: راکب مختار
لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئےاے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئے
محسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نےمیرے دل و دماغ چراغوں سے بھر گئے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئےاے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئے
محسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نےمیرے دل و دماغ چراغوں سے بھر گئے