6 اشعار

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی

Aankhein apni theen, gham apna tha, nami apni thi

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی

«آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

آنکھیں اپنی تھیں، غم اپنا تھا ، نمی اپنی تھیہونٹ جس کےبھی تھے لیکن وہ ہنسی اپنی تھی

یونہی لڑتے رہے لمحوں کی کمی بیشی پروقت اپنا تھا کسی کا نہ گھڑی اپنی تھی

پھر مجھے گھیر لیا اجنبی آوازوں نےاور اس بار ہر آواز مری اپنی تھی

اپنی اپنی نظر آتی تھی وہ کھڑکی لیکنکوئی گھر اپنا رہا تھا نہ گلی اپنی تھی

تیرے ہونے سے زیادہ تھا نہ ہونا میرااب یہ جانا ہے کہ مجھ کو تو کمی اپنی تھی

ایسی دُنیا میں مکاں کون بناتا ، شارقؔجو پرائی تھی کبھی اور کبھی اپنی تھی

— سعید شارق