7 اشعار

سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے

Saans ki dhaar zara ghisti zara kaat-ti hai

سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے

«سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

سانس کی دھار ذرا گھِستی ذرا کاٹتی ہےکیا درانتی ہے کہ خود فصلِ فنا کاٹتی ہے

ایک تصویر جو دیوار سے اُلجھی تھی کبھیاب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے

تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگِ سکوتجس طرح حبس کے پتھر کو ہَوا کاٹتی ہے

قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کونیند جو موڑ، پسِ خواب سرا، کاٹتی ہے

یونہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پران کہا لکھتی کبھی لکھّا ہُوا کاٹتی ہے

شام کے خون سے اٹ جاتا ہے زندان کا فرشاور پھر رات مرے دن کا گلا کاٹتی ہے

چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی، شارقؔچُپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے

— سعید شارق