8 اشعار

بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے

Bahut pyasa hai ped aur pabrahna chal raha hai

بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے

«بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہےسفر کیا ختم ہو، ہمراہ صحرا چل رہا ہے!

کوئی نادیدہ کشتی رینگتی رہتی ہے دل میںیہ مجھ سُوکھے کنویں میں کیسا دریا چل رہا ہے؟

اب اس انبوہ میں کیا راستہ دے پاؤں تجھ کونہ جانے اس گھڑی سینے میں کیا کیا چل رہا ہے!

مَیں اپنے آپ کا مقروض ہوتا جا رہا ہوںاگرچہ دیکھنے میں گھر تو اچھّا چل رہا ہے

اُداسی میرا بازو پکڑے بیٹھی ہے مرے ساتھبھرے میلے میں اک ویران جُھولا چل رہا ہے

عجب خواہش ہے پھر تعمیر ہو جانے کی خواہش!کہ اس کے پیچھے پیچھے میرا ملبہ چل رہا ہے

ذرا سا ہجر کا پتھر لگا تو آ گئے سب!ہٹو، جاؤ! یہاں کوئی تماشا چل رہا ہے؟

یہ کیسا موڑ آ پہنچا ہے تیری رہ گزر میں!مَیں تھک کے گر پڑا ہوں، میرا سایہ چل رہا ہے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں