6 اشعار

نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سے

Nikalne ko, wahi roz o shab, dafeene se

نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سے

«نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

نکالنے کو، وہی روز و شب، دفینے سےاُتر رہا ہوں دبے پاؤں زینے زینے سے

خبر نہ تھی کہ جُھکا دے گا میرے شانوں کوجو بوجھ گھٹتا چلا جا رہا تھا سینے سے

سمندروں پہ مری حکمرانی چلتی تھیپھر ایک جل پری ٹکرا گئی سفینے سے

نہ ہاتھ رکھنے سے کاغذ خموش ہو پایانہ شور گھٹ سکا لفظوں کے ہونٹ سینے سے

مجھے تو کیا مری آنکھوں کو بھی خبر نہ ہوئیبکھر رہا تھا مرا خواب کس قرینے سے

میں تیری یاد بھی دل سے نکالتا لیکنلپٹ چُکا ہے کوئی اژدھا خزینے سے

— سعید شارق