6 اشعار

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ

Bahut ummeed thi wabasta rah-guzar ke saath

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ

«بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھسو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ

پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان مگرمیں گر رہا ہوں ابھی تک اس آبشار کے ساتھ

شجر کا راج نہ تھا ابر کا رواج نہ تھاپھر ایک پھول ملا باد ریگ زار کے ساتھ

کسے خبر کہ نوالہ ہے کس اندھیرے کاجو خواب دیکھتا ہوں چشم‌ آب دار کے ساتھ

سفر کیا تھا کسی اور زندگی کے لیےمگر پلٹنا پڑا شام انتظار کے ساتھ

کسی مدار کے دھوکے میں بے خبر شارقؔالجھ رہے ہیں ستارے مرے حصار کے ساتھ

— سعید شارق