6 اشعار

میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے

Main apne aqb mein hoon gali hai mere peechhe

میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے

«میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھےاک گزری ہوئی شام کھڑی ہے مرے پیچھے

کب تھک کے گروں اور مرے اوپر سے گزر جائےاک راہ گزر کب سے پڑی ہے مرے پیچھے

وہ دن بھی عبث لوٹ کے آیا مری خاطریہ شب بھی یوںہی خار ہوئی ہے مرے پیچھے

اک بار پلٹ کر نہیں دیکھی تھیں وہ آنکھیںہر وقت یہ لگتا ہے کوئی ہے مرے پیچھے

میں دشت بلا ہی سہی ساحل تھا کسی کااک ناؤ کہیں ڈوب گئی ہے مرے پیچھے

کانوں میں یوںہی انگلیاں ٹھونسے رہوں کب تکرہ بھولی ہوئی کوئی ہنسی ہے مرے پیچھے

— سعید شارق