7 اشعار

بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟

Bas raat hai aur kya hai mujh mein?

بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟

«بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟ہاں! بُجھتا دیا پڑا ہے مجھ میں

جو کاٹ دیا تھا عرصہ پہلےاب بھی وہ شجر ہرا ہے مجھ میں

کچھ اپنے لیے بھی تعزیت کر!تُو بھی تو نہیں بچا ہے مجھ میں

ہر سمت ہیں خار دار تاریںاور ایک ہی راستہ ہے مجھ میں

مَیں گونج رہا ہوں سر سے پا تکاک بھٹکی ہُوئی صدا ہے مجھ میں

تُو آئے کہ اور کوئی آئےدروازہ کھُل چکا ہے مجھ میں

پِھر پِھر کے دیکھتا ہے دل کواک زخم نیا نیا ہے مجھ میں

— سعید شارق