8 اشعار

دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئی

Dafatan gaal pe ek boond giri, toot gai

دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئی

«دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

دفعتاً گال پہ اک بُوند گِری، ٹوٹ گئیکیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئی!

کون سمجھاتا کہ یوں وقت کہاں لوٹتا ہےسوئیاں اتنی گھمائیں کہ گھڑی ٹوٹ گئی

چاپ لگتی رہی قدموں کی، ہتھوڑوں کی طرحتُو گیا اور مرے گھر کی گلی ٹوٹ گئی

گٹھڑیاں چپکی ہیں ایسی کہ اترتی ہی نہیںِلاکھ کہتا ہوں کمر ٹُوٹ گئی! ٹوٹ گئی!

قریہ جاں میں چلی تیز ہَوا پل بھر کویاد کی شاخ ہلی اور کلی ٹوٹ گئی

کھینچ پڑتی ہے تو آ جاتا ہوں واپس لیکنکیا کروں گا جو یہ زنجیر کبھی ٹوٹ گئی

جوڑ بیٹھا تھا میں اک روز کوئی آئینہپھر مرے ہاتھ کوئی شے بھی لگی، ٹوٹ گئی

بے خیالی میں اسے پھینک دیا تھا، شارقاور وہ کانچ کی گڑیا ہی تو تھی، ٹوٹ گئی

— سعید شارق