6 اشعار

اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر

Ek nazar daali thi main ne sookhte ashjaar par

اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر

«اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پر» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اک نظر ڈالی تھی میں نے سُوکھتے اشجار پرآن بیٹھی دُھوپ میری روح کی دیوار پر

ٹوٹتے منظر کہاں بارِ دگر جُڑتے مگرموند رکھیں اپنی آنکھیں یاد کے اصرار پر

یہ ہَوا کے دشت میں دھنستے ہوئے بوجھل قدمروشنی ہنستی ہے میری آہ کی رفتار پر

جانے کس کی نیند پُوری ہو گئی میری جگہ!دُھول جمتی جا رہی ہے چشمِ خواب آثار پر

دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایک کر کے جل گئیںروٹیاں رکھّی تھیں مَیں نے آج کے اخبار پر

کرچیاں اتنی ہیں کمرے میں کہ چھپتی ہی نہیںاور کتنی چادریں پھیلائیں اِس انبار پر!

— سعید شارق