7 اشعار

بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے

Bujha diya bhi alao mehsoos ho raha hai

بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے

«بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

بُجھا دِیا بھی الاؤ محسوس ہو رہا ہےہَوا کو میرا پڑاؤ محسوس ہو رہا ہے

یونہی سمندر کا دھیان آیا تھا بیٹھے بیٹھےہرا بھرا پیڑ ناؤ محسوس ہو رہا ہے

مَیں ایک صحرا، جو دُور سے دیکھتا ہوں دریااور اب مجھے بھی کٹاؤ محسوس ہو رہا ہے

عجب طرح سے مجھے ثمربار کر گیا وہبغیر پھل کے جھکاؤ محسوس ہو رہا ہے

جو زخم تازہ لگے ہیں ان کی نہیں ہے پرواجو مندمل ہے وہ گھاؤ محسوس ہو رہا ہے

سیاہ روزن تو مَیں ہوں وہ تو ستارہ ٹھہراتو پھر مجھے کیوں کھنچاؤ محسوس ہو رہا ہے!

چھڑا چکا ہوں میں غم کے بازو سے اپنی گردنمگر ابھی تک دباؤ محسوس ہو رہا ہے

— سعید شارق