9 اشعار

پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا

Pehle khud ko khwab mein bahta dariya hote dekha

پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا

«پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

پہلے خود کو خواب میں بہتا دریا ہوتے دیکھاآنکھ کھلی تو خشک ندی سے صحرا ہوتے دیکھا

جاتے جاتے اُن نظروں نے کیسی دستک دے دی!پل بھر میں پختہ دروازہ بوڑھا ہوتے دیکھا

شک رہتا تھا مرنے والے کیسے جی اُٹھّیں گے؟اور پھر اک دن تیری یاد کو زندہ ہوتے دیکھا

دنیا، جس کی شکل مجھے اک آنکھ نہیں بھاتی تھیاپنی آنکھوں سے خود کو بھی اُس کا ہوتے دیکھا

دیواریں کب تھیں! پر ان کے رخنے بھرتے دیکھےرنگ کہاں تھا! لیکن رفتہ رفتہ ہوتے، دیکھا

دونوں ہیں شاہد اس کی تصویریں ہی مجرم ہیںمَیں نے اور عینک نے مجھ کو اندھا ہوتے دیکھا

کب سوچا تھا، ویرانی بھی ہو گی وجہِ تشبیہ!آخر اُس کو بالکل اپنے جیسا ہوتے دیکھا

اگلی بات بتا! یہ عادت کیسے چھوڑی جائے؟ہاں ہاں! دیکھا! خود کو پھر افسردہ ہوتے، دیکھا!

جانے کب اور کیسے جل کر راکھ ہوا مَیں، شارقاتنا یاد ہے کچھ تِنکوں کو یکجا ہوتے دیکھا

— سعید شارق