8 اشعار

چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک

Cheekh utthay peṛ, kaanp gaya kohsaar tak

چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک

«چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تک» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

چیخ اُٹھّے پیڑ، کانپ گیا کوہسار تکیُوں گُرگِ غم گھسیٹتا لایا ہے غار تک

دریائے شب کے پار گِرا ہے وہ مُرغِ خوابکیسے پہنچ سکوں گا مَیں اپنے شکار تک!

جانے نشستِ ہست مِلے گی بھی یا نہیں!آ تو گیا ہوں بِھیڑ بھری رہ گزار تک!

دُکھ جاتے جاتے جائے گا تنہا اُڑان کابالفرض مَیں پہنچ بھی گیا اپنی ڈار تک

ایسے پلک جھپکتے ہی مُرجھا گیا ہوں مَیںششدر ہے مجھ کو دیکھ کے ابرِ بہار تک

ہوتی ہے اپنے بعد کہِیں ابتدا مِریتکنے کا شوق ہے تو مِرے آرپار، تک!

دیوار ہی فقط نہیں سمجھا مجھے، جہانچسپاں کیے ہوئے ہیں کئی اشتہار تک

دِل کے بجائے مجھ میں دھڑکتی ہے اب مشینہر صبح پونے آٹھ سے دن ساڑھے چار تک

— سعید شارق