6 اشعار

چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی

Chori chhupay jo milti rahi, barmala mili

چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی

«چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

چوری چُھپے جو مِلتی رہی، برملا مِلیتنہائی ایک دِن مجھے محفل میں آ مِلی

ہم دو تھے اور ایک نشستِ ملال تھیوہ اُٹھ کے چل دیا تو مجھے بھی جگہ مِلی

سچ ہے: کوئی بھی شے نہیں خالِص رہی یہاںاب خامشی بھی مِلتی ہے مجھ کو صدا مِلی

رہنے دے دشتِ دِل میں، کہِیں اور مت لگا!مُرجھا نہ جاؤں گر نئی آب و ہوا مِلی!

مُجھ میں بچا ہوا تھا فقط ایک ہی چراغاور اس کی روشنی بھی اندھیرے سے جا مِلی!

ہاں! ہاں! اُسی طرح سے گُزرتے ہیں روز و شبہر شام چائے پیتا ہوں (لیکن دوا مِلی)

— سعید شارق