6 اشعار

وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا

Wahi chubhta hai, jo ek aadh kinara, toota

وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا

«وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹا» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

وہی چُبھتا ہے ، جو ایک آدھ کنارہ، ٹُوٹاشیشہء خواب کہاں سارے کا سارا ٹُوٹا !

سوچتے سوچتے آنکھوں میں لگا سنگِ سرشکدیکھتے دیکھتے اک اور نظارہ ٹُوٹا

خوفِ مسماری ہے کیا شے! کہ مَیں الماری سےایک ہی بار گِرا اور دوبارہ ٹُوٹا

ضبط کی دھار بہت کُند تھی اور کرب گھناکاٹتے کاٹتے اس پیڑ کو آرا ٹُوٹا

اِس طرف بُوند گِری اُس کی سیہ پلکوں سےاور اُدھر رات کی ٹہنی سے ستارہ ٹُوٹا

کتنی پھسلن تھی جدائی کی سڑک پر، شارقروکتے روکتے گاڑی کو، اِشارہ ٹُوٹا

— سعید شارق