3 اشعار

در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!

Dar-o-deewar ko behla bhi kahan sakta tha!

در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!

«در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 25 سیکنڈ ہے۔

در و دیوار کو بہلا بھی کہاں سکتا تھا!کوئی آیا نہیں، خیر! آ بھی کہاں سکتا تھا!

اپنی مرضی سے میں اک خواب کے زنداں میں رہایہ الگ بات کہ تب جا بھی کہاں سکتا تھا!

نوچ کر آنکھیں، کہیں پھینک گیا آخرِکارکرگسِ ہجر مجھے کھا بھی کہاں سکتا تھا!

— سعید شارق