8 اشعار

خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی

Khud hi girift-e-gham se khushi chhoot jaayegi

خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی

«خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

خود ہی گرفتِ غم سے خوشی چُھوٹ جائے گیگریہ کروں گا اور ہنسی چُھوٹ جائے گی

ہاتھوں میں اتنی رسّیاں تھامے ہوئے ہوں میںچھوڑوں گا کوئی اور کوئی چُھوٹ جائے گی

دِل ہی سے آ کے لگتی ہے یہ رہ گُزار بھیگھر چھوڑ دُوں تو خُود ہی گلی چُھوٹ جائے گی

وہ پیڑ بھی نہ توڑنے دے گا ثمر مجھےیہ شاخ بھی سرکتی ہوئی چُھوٹ جائے گی

آزاد کر رہا ہوں میں زنجیرِ خواب کوجو رہ گئی ہے وہ بھی کڑی، چُھوٹ جائے گی

مچھلی کی طرح تیرتی رہتی ہے دِل میں یادہاتھ آئے گی یونہی تو یونہی چُھوٹ جائے گی

اک روز سیکھ لوں گا میں چلنا ترے بغیراک روز ہاتھ سے یہ چھڑی چُھوٹ جائے گی

بیٹھا ہُوا ہوں کب سے زمانے کی ریل میںلگتا ہے پھر بھی جیسے ابھی چُھوٹ جائے گی

— سعید شارق