7 اشعار

تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!

Tere kis kaam ka taqdeer se hara hua main!

تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!

«تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

تیرے کس کام کا تقدیر سے ہارا ہُوا مَیں!تُو اگر لمحۂ فردا تو گزارا ہُوا مَیں

اُس کی سانسوں میں بھری تھی وہ طلسم آمیزیدفعتاً برف کے ٹکڑے سے شرارا ہُوا مَیں

خود کو تکنا ہو تو آئینے مجھے تکتے ہیںایسے شفّاف ہوں مٹّی کا نتھارا ہُوا مَیں

جانے کتنے ہی چراغوں کی عداوت جھیلی!تب کہیں جا کے ستاروں کو گوارا ہُوا مَیں

ریگِ صحرا میں اَٹے رہنے کا غم اپنی جگہپھر بھی خوش ہوں کہ پرندوں کا سہارا ہُوا مَیں

وہ یہ سمجھے کہ مجھے خود سے محبت ہی نہ تھیبس یہی سوچ کے اے دوست ! تمہارا ہُوا مَیں

پہلے پہلے تو مِلے مجھ میں سمندر، شارقؔاور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گارا ہُوا مَیں

— سعید شارق