5 اشعار

دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں

Deewar gira ke dekhta hoon

دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں

«دیوار گِرا کے دیکھتا ہوں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

دیوار گِرا کے دیکھتا ہوںمنظر کو ہٹا کے دیکھتا ہوں

کیا تجھ پہ یقین ہو! کہ خُود کواب ہاتھ لگا کے دیکھتا ہوں

ہم کیسے دکھائی دیتے اک ساتھ!تصویریں بنا کے دیکھتا ہوں

مُمکن ہے وہ پیڑ ساتھ چل دےکُچھ بار گھٹا کے دیکھتا ہوں

کیا اُگتا ہے کرچیوں سے، شارقمٹّی میں دبا کے دیکھتا ہوں

— سعید شارق