6 اشعار

کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!

Kis abr-e-rawan ke sar gaye hain!

کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!

«کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

کِس ابرِ رَواں کے سَر گئے ہیں!وہ نالے جو بے اَثَر گئے ہیں

دیکھا ہے بہ غور جانے کِس نے!تصویر کے زَخْم بَھر گئے ہیں

میں اور زمیں میں دھنس گیا ہوںگَو قافلے تو گُزر گئے ہیں

یہ سانحہ، سانحہ کہاں ہے!دِن رات یونہی ٹھہر گئے ہیں

اَخبار چھَپا ہُوا ہے دِل پَرکہنے کو تو بے خَبَر گئے ہیں

گاڑی میں بیٹھے بیٹھے، شارِقہم دُور کہِیں اُتر گئے ہیں

— سعید شارق