6 اشعار

دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے

Dekh! Daftar mein hoon, kaam ka waqt hai

دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے

«دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

دیکھ! دفتر میں ہوں، کام کا وقت ہےیاد آنے کا یہ کون سا وقت ہے!

میرے قدموں تلے دشتِ فردا کی دُھولمیری گٹھڑی میں گُزرا ہُوا وقت ہے

وقت کیسے کٹے؟ زخم کیسے بھرے؟زخم: نا زخم ہے، وقت: نا وقت ہے

جانے کب خُود کو بھی وقت دے پاؤں گا!خیر! تیرے لیے،وقت تھا! وقت ہے!

دستِ آئینہ میں ہے عجب ریگِ عکسیہ گھڑی ہے مِری! یہ مِرا وقت ہے!

اِس جگہ تو زماں کا تصوّر نہیںتُو جہاں ہے، وہاں جانے کیا وقت ہے!

— سعید شارق