9 اشعار

گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!

Guzra hai kaisa waqt meri kaaynaat se!

گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!

«گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

گُزرا ہے کیسا وقت مِری کائنات سے!ٹکرا گیا ہے دِن مِرے اندر کی رات سے

لَوحِ نظر پہ لِکھتے ہُوئے اِک سُنہری لَفظکُچھ رَوشنائی گِر پڑی دِل کی دَوات سے

میرے سِوا نہیں ہے کوئی رَہ گُزارِ غَمیہ بَرقی رو گُزرتی ہے بَس ایک دھات سے

جیسے پرندہ مار گِرائے جَہاز کومَیں ڈھ کے رہ گیا ہوں کِسی اُڑتی بات سے

رَوشَن رہے گی یاد کی کِرنوں سے جھونپڑیاِک دُھوپ چھن کے آتی رہے گی قَنات سے

خاموشیوں کی بِھیڑ میں یہ ڈَولتے قدم۔۔۔آواز گِر نہ جائے سماعت کے ہات سے

کون اپنی چھان بین کرے! وہ بھی روز روز!مَیں تنگ پڑ چُکا ہوں اَب اپنی جہات سے

دُھلنے لگے ہیں ابرِ نِگَہ سے تمام نقشغازہ اُتر رہا ہے رُخِ کائنات سے

ہر ہَفتہ مُجھ کو کاٹتے کَٹ جاتا ہے، سَعیدتَقسیم ہو رہا ہوں لگا تار، سات سے

— سعید شارق