7 اشعار

مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں

Meri chamak damak ab jauhari ko yaad nahin

مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں

«مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیںمَیں وہ گُہر ہوں جو اپنی لَڑی کو یاد نہیں

ذَرا بھی ہاتھ بٹاتی نہیں ہے گِریہ میںمِرا ہی غَم مِری افسردگی کو یاد نہیں

کھڑے ہیں مدرسہءِ ہَست میں خَجِل کب سے!نہ جانے کیسا سَبَق تھا! کِسی کو یاد نہیں

خُوشی تڑپتی ہے بے طرح دِل کے صَحرا میںکہاں سے لایا ہوں اِس جَل پَری کو، یاد نہیں!

سَرِشک و خواب ہیں کیا چِیز! عَکس کیا شَے ہے!کِسی کے بارے میں چَشمِ تَہی کو یاد نہیں

وہ دِھیمی چاپ، وہ دَستَک، وہ دُھول، وہ آنسومَکاں کو یاد ہے سَب کُچھ، گلی کو یاد نہیں

گُھمائے جاتی ہیں بَس یُوں ہی سُوئیاں، شارِقاب اصل وَقت کِسی بھی گھَڑی کو یاد نہیں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں