8 اشعار

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی

Dekh Paaye To Kare Koi Pazeerai Bhi

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی

«دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھیمیں تماشا بھی ہوں اور اس کا تماشائی بھی

کون سمجھے مری آبادی و ویرانی کوجھیل کی سطح پہ کشتی بھی ہے اور کائی بھی

قفس وصل میں سب شور ہمارا تو نہیںپھڑپھڑاتا ہے بہت طائر تنہائی بھی

اب اداسی کسی دیرینہ نشے کے مانندمیری کمزوری بھی ہے اور توانائی بھی

کتنی لہریں تھیں جو مشترکہ تھیں ہم دونوں میںسو ترے ساتھ ہوئی کم مری گہرائی بھی

اب میں کانوں پہ رکھوں ہاتھ کہ آنکھوں پہ رکھوںشور اتنا ہے کہ لے جائے گا بینائی بھی

بانسری کی وہی آواز سناتے ہیں مجھےڈھول بھی پیانو بھی سارنگی بھی شہنائی بھی

میں نے تحفے میں نئے رنج کی چادر شارقؔصرف لائی ہی نہیں خود اسے پہنائی بھی

— سعید شارق