6 اشعار

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے

Saans Ki Dhar Zara Ghasasti Zara Kaatti Hai

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے

«سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہےکیا درانتی ہے کہ خود فصل فنا کاٹتی ہے

ایک تصویر جو دیوار سے الجھی تھی کبھیاب مری نظروں میں رہنے کی سزا کاٹتی ہے

تیری سرگوشی سے کٹ جاتا ہے یوں سنگ سکوتجس طرح حبس کے پتھر کو ہوا کاٹتی ہے

قطع کرتا ہے مرے حلقۂ ویرانی کونیند جو موڑ پس خواب سرا کاٹتی ہے

یوں ہی گرتی نہیں اشکوں کی سیاہی دل پران کہا لکھتی کبھی لکھا ہوا کاٹتی ہے

چیخنا چاہوں تو ڈستی ہے خموشی شارقؔچپ رہوں تو مجھے زہریلی صدا کاٹتی ہے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں